’’ہمارے خلاف کوئی سازش نہیں کر رہا ہے”.اسلام آباد کے ایف 11/1 سیکٹر کے انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے مزید کہا کہ “ہم خود سازشی ہیں۔.قومی رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی نے اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ کے عالمی دن کے موقع پر جمعہ کے روز اسلامو فوبیا کے خلاف قومی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ یہ بات احسن اقبال نے اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کی۔اسلامو فوبیا اس خوف اور نفرت کی پیداوار ہے جو غیر مسلم ممالک میں لوگ اسلام سے ایک مذہب کے طور پر محسوس کرتے ہیں۔ شروع میں، یہ تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا. آہستہ آہستہ، اس خیال میں پیسہ لگایا گیا اور یہ ایک بڑے عوامیت پسند موضوع میں بدل گیا۔مسلم یا غیر مسلم ممالک میں پاپولسٹ سیاسی جماعتیں ‘دوسروں’ کے بارے میں ایسے خوف اور نفرت کو پروان چڑھاتی ہیں۔ان جماعتوں نے یورپ، امریکہ اور بعض مسلم ممالک میں کامیابی حاصل کی ہے جہاں انتخابات ہو رہے ہیں۔پاکستان نے عوامیت پسند حکومت سے خود کو دور کرنے میں معنی خیز پیش رفت کی ہے۔ ہمارے پاس حکومت میں احسن اقبال جیسی آوازیں موجود ہیں۔ لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے کیونکہ اسلاموفوبیا ایک عالمی رجحان ہے۔ جب احسن اقبال اسلام آباد میں ’’کردار کی تعلیم کے ذریعے اسلامو فوبیا کا مقابلہ” کے موضوع پر بات کر رہے تھے، اقوام متحدہ کے اتحاد برائے تہذیبوں (یو این اے او سی) کے اعلی نمائندے انڈر سیکرٹری جنرل میگل اینگل مورتنوس نیویارک کے جنرل اسمبلی ہال میں دنیا بھر کے ممالک سے خطاب کر رہے تھے۔ان کی تقریر کا پہلا جملہ یہ تھا کہ “میں اسلاموفوبیا سے نمٹنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلسل کوششوں اور عزم پر اسلامی تعاون تنظیم کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔”یہ ریمارکس پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک پیغام ہیں جو اس پروپیگنڈے میں مصروف ہیں کہ دراصل عوامیت پسند سیاسی جماعت کے ایک رہنما نے اسلاموفوبیا کو حقیقت کے طور پر قبول کرنے کے لیے اقوام متحدہ کو مجبور کر دیا تھا۔بہت سے عالمی رہنما، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، اقوام متحدہ کے ہال میں اسلاموفوبیا پر تقاریر کرتے رہے ہیں۔ ان پاکستانی نوجوانوں کے رہنما ان بہت سے لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے 2019 میں ایسی تقاریر کی تھیں۔ اس وقت یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر بڑھ رہی تھی۔وسیع تر کینوس پر ، محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے نفرت کی اس لہر کو روکنے کے لئے بڑے سفارتی اقدامات کا آغاز کیا۔ سعودی عرب اس بحث کو دہشت گردی کی وجوہات میں اسلامو فوبیا کی شمولیت کی سطح پر لے گیا تھا۔مغربی دارالحکومتوں میں مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا تھا کیونکہ مغربی دارالحکومتوں کو بھرنے والے مسلم ممالک کے کچھ جنونی لوگ پہلے کسی کو بھی دشمن قرار دیتے ہیں۔ پھر اس پر چیختے اور گولی یا چاقو سے حملہ کرتے ہیں۔ اس سے دہشت و خوف پھیل جاتا ہے۔ یہ سب وہ اسلاموفوبیا کے نام پہ کرتے ہیں۔ تاہم مغربی حکومتوں کی طرف سے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینا ایک دھوکہ ہے جو مغربی رہنما اپنی عوام کو دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑا سکیں۔ اپنے شہروں کی حفاظت کرنا ان کی زمہ داری ہے۔ مغربی رہنماؤں نے کبھی بھی اس بات کا پتہ لگانے کے لئے کوئی فعال نقطہ نظر نہیں اپنایا کہ ان کی سرزمین پر کس کو اترنا چاہئے۔ انہوں نے کبھی خود سے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کوئی تردد نہیں کیا کہ ان کے ملک میں دہشت گرد نہ آئیں۔ انہوں نے صرف ویزا کے عمل کو پیچیدہ بنانے اور مال کمانے پہ توجہ رکھی۔ امریکہ اور یورپ میں پاپولسٹ پارٹیوں کو دوبارہ ابھرنے میں کافی وقت لگ سکتا تھا اگر ہمارے درمیان مغرب سے نفرت کرنے والی مسلم آبادیاں پروان نہ چڑھتیں۔ یہی حال مسلم ممالک کے پاپولسٹ رہنماؤں کا بھی ہے۔ اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیا پر پاکستان کے پاپولسٹ رہنما کی تقریر سے پہلے، مغربی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے واقعات پر بڑی تعداد میں خبریں اسلام آباد میں جمع کی گئیں۔ یہ سب نفرت پھیلانے کا مواد مغربی اخباروں سے لیا گیا تھا جو پاکستان میں کہیں موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد اس نفرت انگیز مواد کو مختلف میڈیا مصنوعات میں ڈھالا گیا اور پورے ملک میں پھیلایا گیا۔ اس وقت امریکی سفارت خانے میں کوئی سفیر نہیں تھا۔ لیکن نفرت پھیلانے والی فیکٹری ڈبل شفٹوں میں کام کر رہی تھی۔ مغرب کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی تھی۔ اس وقت کے وزیر اعظم پنجاب کے ضلع وہاڑی جیسے دور دراز علاقوں میں عوامی تقاریر کر رہے تھے اور یورپی سفیروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔اس وقت کے وزیر اعظم اچھی طرح جانتے تھے کہ وہاڑی کے عوامی اجتماع کے سامعین کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اسلام آباد میں کینیڈا، فرانس یا یورپی یونین کے سفیر کون ہیں۔ حکومتی وزرائ، خاص طور پر انسانی حقوق کے وزیر، جن کا پس منظر امریکن سٹڈیز ((American Studies کا تھا اور دیگر، جن کے خاندان امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں آباد تھے، کسی نہ کسی وجہ سے ان جمہوریتوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے سوشل میڈیا پر متحرک تھے۔ لیکن ساتھ ساتھ حکمراں جماعت کو زیادہ تر فنڈز بھی انہی مغربی جمہوریتوں سے مل رہے تھے۔ اسلاموفوبیا بنیادی طور پر مغربی معاشروں کے لئے ایک لعنت ہے۔ یہ ایک عالمی رجحان ہے، جس پر عالمی رد عمل کی ضرورت ہے۔ پاکستان اس معاملے پر اقوام متحدہ میں او آئی سی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مسلم ورلڈ لیگ (ایم ڈبلیو ایل) کے ساتھ بھی قدم ملا رہا ہے، جس کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد العیسیٰ نے جمعے کے روز اقوام متحدہ کو بتایا کہ اسلاموفوبیا قابل قبول نہیں ہے۔
پاکستان اسلامی فوجی انسداد دہشت گردی اتحاد کا رکن ہے جہاں وہ اسلاموفوبیا اور دہشت گردی کی دیگر وجوہات کا مقابلہ کرنے کے لئے سفارتی طور پر پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے پلیٹ فارم موجود ہیں، جن میں سے زیادہ تر سعودی عرب کی جانب سے قائم کیے گئے ہیں، جنہیں اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن ہمیں ان نیٹ ورکس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو مغرب کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں اور اسے تحقیق کے طور پر پیش کرتے ہیں۔