محمود احمد

پاکستان میں اخلاقی اقدار کا فقدان اور بڑھتی ہوئی سماجی برائیاں

تحریر:محمود احمد
پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس کی بنیاد اسلامی اصولوں، اخلاقی اقدار اور اجتماعی فلاح کے تصور پر رکھی گئی تھی۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے دیانت، قانون کی پاسداری اور سماجی انصاف کو ایک مضبوط ریاست کی اساس قرار دیا تھا۔ مگر افسوس کہ آج ہمارا معاشرہ اخلاقی اقدار کے شدید فقدان کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں سماجی برائیاں جڑ پکڑتی جا رہی ہیں۔آج پاکستان میں بدعنوانی، جھوٹ، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، سفارش اور ناانصافی کو معمول سمجھا جانے لگا ہے۔ سرکاری دفاتر ہوں یا بازار، تعلیم ہو یا صحت—ہر شعبے میں اخلاقی زوال واضح دکھائی دیتا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کو ہوشیاری اور ایمانداری کو نادانی سمجھا جاتا ہے۔ یہی سوچ معاشرتی بگاڑ کو جنم دے رہی ہے اور ریاستی نظام پر عوام کے اعتماد کو کمزور کر رہی ہے۔خاندانی نظام، جو پاکستانی معاشرے کی پہچان رہا ہے، بھی کمزوری کا شکار ہے۔ والدین معاشی دباؤ اور مصروفیات کے باعث بچوں کی اخلاقی تربیت پر پوری توجہ نہیں دے پا رہے۔ نتیجتاً نوجوان نسل میں عدم برداشت، جلد غصہ، تشدد اور منفی رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ منشیات کا استعمال، جرائم اور سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی رویے اسی تربیتی خلا کا نتیجہ ہیں۔تعلیمی نظام بھی اخلاقی تربیت کے حوالے سے اپنا مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے ڈگریاں تو دے رہے ہیں مگر کردار سازی پسِ پشت چلی گئی ہے۔ نقل، سفارش اور جعلی اسناد جیسے رجحانات نے تعلیم کے تقدس کو مجروح کیا ہے۔ ایک ایسا تعلیم یافتہ طبقہ جنم لے رہا ہے جو پیشہ ورانہ مہارت تو رکھتا ہے مگر سماجی ذمہ داری سے عاری ہے۔پاکستانی میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا، نے بھی اخلاقی اقدار کے زوال میں اضافہ کیا ہے۔ جھوٹی خبروں، کردار کشی، نفرت انگیز مواد اور غیر ذمہ دارانہ اظہارِ رائے نے معاشرے میں تقسیم اور انتشار کو بڑھا دیا ہے۔ اختلافِ رائے کے آداب ختم ہوتے جا رہے ہیں اور برداشت کی جگہ شدت پسندی لے رہی ہے، جو قومی یکجہتی کے لیے خطرناک ہے۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ آئین کے مطابق انصاف، مساوات اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے۔ جب احتساب یکساں نہ ہو اور طاقتور قانون سے بالاتر نظر آئے تو اخلاقی اقدار کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایک مضبوط اور شفاف نظام ہی معاشرے کو اخلاقی سمت فراہم کر سکتا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنا احتساب کریں۔ اخلاقی اقدار کی بحالی کے لیے خاندان، تعلیمی ادارے، علماء، میڈیا اور ریاست کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ دیانت، برداشت، احترام اور ذمہ داری جیسے اوصاف کو دوبارہ فروغ دینا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے پاکستان سماجی برائیوں سے نجات پا کر ایک پُرامن، منصفانہ اور ترقی یافتہ ریاست بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں